5 جون 2011 - 19:30

ویانا میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس آج ہورہا ہے ۔ اس اجلاس میں زیربحث آنے والے موضوعات میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ کا جائزہ بھی شامل ہے ۔ اس اجلاس کے موقع پر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے یوکیا آمانو کے خط کے جواب میں ایران کی ایٹمی توانائي کے ادارے کے سربراہ فریدون عباسی کی جانب سے خط ارسال کۓ جانے کی خبر دی ہے ۔

ابنا: ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ فریدون عباسی نے گزشتہ مہینے کے آخری دنوں میں یوکیا آمانو کے نام ایک خط میں ایران پر لگاۓ جانے والے الزامات کے بے بنیاد ہونے پر تاکید کی۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے دو ہفتے قبل جاری کی جانے والی اپنی رپورٹ میں بے بنیاد مفروضوں کی بنا پر دعوی کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بعض ایسی ممکنہ معلومات حاصل ہوئی ہیں جن کو ایجنسی کے علم میں نہیں لایا گیا تھا اور اب ان معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ آٹھ برسوں سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں مخاصمانہ رویہ اختیار کیا گيا جو سراسر سیاسی ہے۔ اسی سیاسی رویۓ اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے امریکہ اور چند جانے پہچانے ممالک سے متاثر ہونے کی وجہ سےایران کے ایٹمی پروگرام کو اس کے معمول کے راستے سے ہٹا کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا گيا۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اپنی ستائیس سے زیادہ رپورٹوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق کرچکی ہے۔ لیکن اس سے پہلی والی تقریبا تمام رپورٹوں اور یوکیا آمانو کے اس ایجنسی کے سربراہ بننے کے بعد جاری ہونے والی چند رپورٹوں میں بھی بعض ایسے مبہم نکات بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں سیاسی رویۂ اختیار کۓ جانے کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ میں بھی بعض مبہم شقیں شامل کی گئي ہیں جن میں دعوی کیا گيا ہےکہ ایران نے اپنی بعض ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر یہ تاثر قائم ہوجاۓ کہ ایٹمی توانا‏ئي کی عالمی ایجنسی کا بورڈ آف گورنر یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل چند منہ زور طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئي ہے تو اس صورت میں موجودہ صورتحال میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ واضح سی بات ہے کہ اسرائيل کی جانب سے لاحق ایٹمی خطرے جیسے مسائل کو بھی نظر انداز کردیا جاۓ گا۔ اور یہ چيز عالمی برادری کے لۓ قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ عالمی برادری ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اور اقوام متحدہ سے یہ توقع وابستہ کۓ ہوۓ ہے کہ ایٹمی توانائي سب کے لۓ ہو اور ایٹمی ہتھیار کسی کے لۓ بھی نہیں ۔ یہ ایک واضح اور روش مطالبہ ہے جو امریکہ کی مخالفت اور دباؤ کے باوجود این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں منظور کیا جا چکا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت